سپیکرز
ملک کا پیش کردہ کلام
کھینچ کر عکس فسانے سے الگ ہو جاؤ
کھینچ کر عکس فسانے سے الگ ہو جاؤ بے نمو آئنہ خانے سے الگ ہو جاؤ سارا دن ساتھ رہو سائے کی صورت اپنے شام ہوتے ہی بہانے سے الگ ہو جاؤ شعر وہ لکھو جو پہلے کہیں موجود نہ ہو خواب دیکھو تو زمانے سے الگ ہو جاؤ شاعری ایسے جھمیلوں سے بہت آگے ہے اس نئے اور پرانے سے الگ ہو جاؤ نیند میں حضرت یوسف کو اگر دیکھا ہے عین ممکن ہے گھرانے سے الگ ہو جاؤ احتراماً مرے حلقے میں رہے ہو شامل اہتماماً مرے شانے سے الگ ہو جاؤ اس کو تصویر کرو صفحۂ دل پر آزرؔ غیب کا نقش بنانے سے الگ ہو جاؤ
یہ خرابہ کبھی آباد ہوا کرتا تھا
یہ خرابہ کبھی آباد ہوا کرتا تھا مور چگتے تھے یہاں اونٹ وہاں چرتا تھا رات لے آئی ہے پھر گھور اندھیرے میں اسے ان خلاؤں سے مرا چاند بہت ڈرتا تھا نشۂ حال نے بدمست کیا تھا اس کو آنکھ رکھتا تھا کہیں پاؤں کہیں دھرتا تھا حبس اتنا تھا کہ کھنچتی ہی نہ تھی سانس کی ڈور زندہ رہنے کی تگ و دو میں جہاں مرتا تھا جانے تصویر سے کیا شکل نکل آئی تھی رنگ بھرتے ہوئے آہیں بھی کوئی بھرتا تھا یہ نیا دور ہے ورنہ تو گئے وقتوں میں پھول خوشبو کا نمائندہ ہوا کرتا تھا اب مجھے یاد نہیں زیست کا معنی آزرؔ میں نے اس لفظ کو عجلت میں کہیں برتا تھا
شیشۂ وقت میں اب دیکھیے کیا ٹوٹتا ہے
شیشۂ وقت میں اب دیکھیے کیا ٹوٹتا ہے شامؔ ہوتی ہے کہ سورجؔ کا نشہ ٹوٹتا ہے اس لیے بند ہی رکھتا ہوں میں آنکھیں اپنی دیکھتا ہوں تو مرا دیکھا ہوا ٹوٹتا ہے کون جھانکے گا مری روح کی گہرائی میں کون دیکھے گا مرے جسم میں کیا ٹوٹتا ہے ایک ہوتا ہے یہاں آ کے لہو اور پانی جس جگہ ملتا ہے ساحل اسی جا ٹوٹتا ہے عکس جم جاتے ہیں جب برف کی صورت مجھ میں آئنہ ہوتا ہوا نقش بجا ٹوٹتا ہے سر بسر وقت کو تجسیم کیا ہے میں نے ایک لمحہ سے فقط لمحہ نما ٹوٹتا ہے آسماں ٹوٹ چکا اپنے سروں پر آزرؔ اب تو آنکھوں پہ فقط سیل بلا ٹوٹتا ہے