دلاور علی آزر

اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)

28 December 2025

14سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

ملک کا پیش کردہ کلام

کھینچ کر عکس فسانے سے الگ ہو جاؤ

کھینچ کر عکس فسانے سے الگ ہو جاؤ بے نمو آئنہ خانے سے الگ ہو جاؤ سارا دن ساتھ رہو سائے کی صورت اپنے شام ہوتے ہی بہانے سے الگ ہو جاؤ شعر وہ لکھو جو پہلے کہیں موجود نہ ہو خواب دیکھو تو زمانے سے الگ ہو جاؤ شاعری ایسے جھمیلوں سے بہت آگے ہے اس نئے اور پرانے سے الگ ہو جاؤ نیند میں حضرت یوسف کو اگر دیکھا ہے عین ممکن ہے گھرانے سے الگ ہو جاؤ احتراماً مرے حلقے میں رہے ہو شامل اہتماماً مرے شانے سے الگ ہو جاؤ اس کو تصویر کرو صفحۂ دل پر آزرؔ غیب کا نقش بنانے سے الگ ہو جاؤ

— دلاور علی آزر

یہ خرابہ کبھی آباد ہوا کرتا تھا

یہ خرابہ کبھی آباد ہوا کرتا تھا مور چگتے تھے یہاں اونٹ وہاں چرتا تھا رات لے آئی ہے پھر گھور اندھیرے میں اسے ان خلاؤں سے مرا چاند بہت ڈرتا تھا نشۂ حال نے بدمست کیا تھا اس کو آنکھ رکھتا تھا کہیں پاؤں کہیں دھرتا تھا حبس اتنا تھا کہ کھنچتی ہی نہ تھی سانس کی ڈور زندہ رہنے کی تگ و دو میں جہاں مرتا تھا جانے تصویر سے کیا شکل نکل آئی تھی رنگ بھرتے ہوئے آہیں بھی کوئی بھرتا تھا یہ نیا دور ہے ورنہ تو گئے وقتوں میں پھول خوشبو کا نمائندہ ہوا کرتا تھا اب مجھے یاد نہیں زیست کا معنی آزرؔ میں نے اس لفظ کو عجلت میں کہیں برتا تھا

— دلاور علی آزر

شیشۂ وقت میں اب دیکھیے کیا ٹوٹتا ہے

شیشۂ وقت میں اب دیکھیے کیا ٹوٹتا ہے شامؔ ہوتی ہے کہ سورجؔ کا نشہ ٹوٹتا ہے اس لیے بند ہی رکھتا ہوں میں آنکھیں اپنی دیکھتا ہوں تو مرا دیکھا ہوا ٹوٹتا ہے کون جھانکے گا مری روح کی گہرائی میں کون دیکھے گا مرے جسم میں کیا ٹوٹتا ہے ایک ہوتا ہے یہاں آ کے لہو اور پانی جس جگہ ملتا ہے ساحل اسی جا ٹوٹتا ہے عکس جم جاتے ہیں جب برف کی صورت مجھ میں آئنہ ہوتا ہوا نقش بجا ٹوٹتا ہے سر بسر وقت کو تجسیم کیا ہے میں نے ایک لمحہ سے فقط لمحہ نما ٹوٹتا ہے آسماں ٹوٹ چکا اپنے سروں پر آزرؔ اب تو آنکھوں پہ فقط سیل بلا ٹوٹتا ہے

— دلاور علی آزر